انسان ایک دوسرے میں نرمی کا رشتہ بنائیں

نرمی کی عادت اسلام میں بڑی اہمیت رکھتی ہے ,انسان ایک دوسرے میں نرمی کا رشتہ بنائیں۔ نرمی کا مطلب ہے کے انسان اپنا دل، جبان اور عمل میں شفقت، مہربانی اور آسانی کا مظاہر کرے۔ نرمی سے انسان اللہ کی رضا حاصل کر سکتا ہے، لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کر سکتا ہے اور دنیا اور آخرت کی بھلائیاں پا سکتا ہے۔ نرمی سے انسان خوش گوار، صالح اور بہترین اور فدا مند بن جاتا ہے۔

نرمی کی فضیلت اور اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی نرمی کو اپنی رحمت قرار دیا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے:

فَبِمَا رَحْـمَةٍ مِّنَ اللّـٰهِ لِنْتَ لَـهُـمْ ۖ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَاعْفُ عَنْـهُـمْ وَاسْتَغْفِرْ لَـهُـمْ وَشَاوِرْهُـمْ فِى الْاَمْرِ ۖ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّـٰهِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ (159)

ترجمہ: تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ اور ان کی شفاعت کرو اور کاموں میں ان سے مشورہ لو اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو بے شک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں.

یہ آیت سے ظاہر ہوتا ہے کے نرمی سے دعوتِ اسلام کی تربیت ہوتی ہے، لوگون کے دلوں میں دین کی محبت پیدا ہوتی ہے اور انکو ہدایت مل جاتی ہے۔

نرمی کا رشتہ سرف دعوتِ اسلام سے ہی نہیں بلکے ہر شوبے زندگی سے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نرمی کی تعریف کچھ اس طرح کی ہے:

اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” یقیناً اللہ نرمی کرنے والا اور ہر چیز میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نرمی کرنے والا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور نرمی کرنے پر سختی نہیں کرتا اور اس کے علاوہ کسی چیز پر عطا نہیں کرتا۔ ۔

حدیثوں سے سمجھنا ہوتا ہے کے نرمی سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور رحمت حاصل ہوتی ہے، انسان کو دنیا اور آخر میں فواد ملتے ہیں اور کا درجہ بلند ہوتا ہے۔

انسان ایک دوسرے میں نرمی کا رشتہ بنائیں
انسان ایک دوسرے میں نرمی کا رشتہ بنائیں

انسان ایک دوسرے میں نرمی کا رشتہ بنائیں اور بھائی چارے میں رہیں

نرمی کا آسر ہر رشتے اور مملے پر ہوتا ہے۔ چاہو وہ والدین، شوہر بیوی، بیتیاں، بھائی بہن، دوست احباب، مزدور خادم یا جانور ہوں۔ نرمی سے ان سب رشتوں اور مومنوں میں خیر و برکت، محبت و اتفاق، سکھون و سلام اور راحت و رحمت سے ادا ہوتی ہے۔ نرمی سے انسان خوشحال اور کامیاب بن جاتا ہے۔

نرمی کی عادت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کے انسان اپنے دل کو نرم کرے۔ دل کا نرم ہونا اسلام کی روح ہے۔ انسان ایک دوسرے میں نرمی کا رشتہ بنائیں , جب دل نرم ہو جائے تو زبان اور عمل بھی نرم ہو جاتے ہیں۔ دل کو نرم کرنے کے لیے کچھ راستے یہ ہیں:

زبن اور پیٹ کا قفل مدینہ لگانا، یانی ضروری کے متابق گفتگو کرنا اور بھوک سے کام کھانا۔

موت کو یاد کرنا، اسی وجہ سے انسان تکبر سے بچتا ہے اور آخرت کی تیاری کرتا ہے۔

اچی صحبت اختیار کرنا، اس انسان کی وجہ سے نیکی کرو اور سب کو برائی سے روکو۔

ہر قسم کے گناہوں سے پاک ہونا اور ہمارا دل صاف ستھرا رہتا ہے۔

انسان ایک دوسرے میں نرمی کا رشتہ بنانے کا عمل واقعی زندگی کو روشنی اور گرمی سے بھر دیتا ہے۔ یہ رشتہ محبت اور احترام کی ایک پیاری کہانی کو بیان کرتا ہے جو دلوں کو جذباتی طور پر متاثر کرتی ہے۔ جب دو افراد ایک دوسرے کے ساتھ نرمی اور خوشی کے رشتے کو بناتے ہیں، تو وہ ایک دوسرے کی زندگی کی ہر لمحے کو تبدیل کر دیتے ہیں۔

ایک دوسرے کا حمایتی بننا، گھنٹی کی طرح ہمیں ہر گھڑی پر آپ کی موجودگی کی یاد دلاتا ہے۔ یہ رشتہ وفاداری اور خوشی کی ایک پرچھائی دیتا ہے جو زندگی کو سبزوار بناتی ہے۔ انسان ایک دوسرے میں نرمی کا رشتہ بنانے سے ہماری دنیا روشن ہو جاتی ہے اور ہم ایک خوشی اور محبت بھرے جذبات کی جگہ میں جاتے ہیں جہاں ہر دم ہم ایک دوسرے کے ساتھ محبت سے جڑے رہتے ہیں۔

امید ہے کے بلاگ سے آپ کو نرمی کی اہمیت اور فضیلت کا اندازہ ہوگا اور آپ خاصلیت کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کی کوشیش کریں گے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو نرمی کی خاصلات عطا فرمائی اور ہم سے فدا اٹھانے کی توفیق عطا فرمائی۔ آمین

Write a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *